ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جسٹس پناکی چندر گھوش ہوں گے ملک کے پہلے لوک پال، سلیکشن کمیٹی نے طے کیا نام

جسٹس پناکی چندر گھوش ہوں گے ملک کے پہلے لوک پال، سلیکشن کمیٹی نے طے کیا نام

Mon, 18 Mar 2019 00:03:36    S.O. News Service

نئی دہلی، 17 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جلد ہی ملک کو پہلا لوک پال ملنے والا ہے۔سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس پناکی چندر گھوش کو ملک کا پہلا لوک پال بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی، چیف جسٹس رنجن گوگوئی، لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن، مکل روہتگی کی سلیکشن کمیٹی نے جمعہ کو ان کا نام طے کیا اور ان کی سفارش کی،اس بابت پیر کو سرکاری اعلان ہو سکتا ہے۔لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر اور کانگریس رکن ملکا ارجن کھڑگے بھی سلیکشن کمیٹی کے رکن ہیں، لیکن وہ انتخاب کے عمل میں شامل نہیں ہوئے۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے جسٹس گھوش کی تقرری سے متعلق فائل صدر کے پاس بھیج دی ہے۔لوک پال بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ہے۔اس کمیٹی میں ایک چیئرمین، ایک عدالتی رکن اور ایک غیر عدالتی رکن ہوتے ہیں۔بتا دیں کہ ملکا ارجن کھڑگے نے لوک پال سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ میں شامل ہونے کی حکومت کی پیشکش کو مسلسل ساتویں بار مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’خصوصی مدعو رکن‘ کے لوک پال سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہونے یا اس میٹنگ میں شامل ہونے کا کوئی شرط نہیں ہے۔

لوک پال سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ جمعہ کو ہوئی تھی۔لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر نے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ لوک پال ایکٹ 2013 کی دفعہ چار میں ’خصوصی مدعو رکن‘ کے لوک پال سلیکشن کمیٹی کی حصہ ہونے یا اس میٹنگ میں شامل ہونے کا کوئی قانون نہیں ہے۔ملکا ارجن کھڑگے نے تب کہا تھا کہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مودی حکومت نے لوک پال قانون میں ایسی ترمیم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جس سے اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کا لیڈر منتخب کمیٹی کے رکن کے طور پر میٹنگ میں شامل ہو سکے۔پی سی گھوش سپریم کورٹ نے مئی 2017 کو ریٹائر ہوئے تھے، وہ اس وقت قومی انسانی حقوق کمیشن کے رکن ہیں۔پی سی گھوش تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلی جے للتا کی اتحادی رہی ششی کلا کو آمدنی سے زیادہ جائیداد کے معاملے میں مجرم ٹھہرا چکے ہیں۔

بتا دیں کہ لوک پال کی مانگ کو لے کر ملک میں 2012 میں غاصب سیاسی تحریک ہوئی تھی۔سماجی کارکن انا ہزارے، دہلی کے موجودہ وزیر اعلی اروند کیجریوال، پنڈوچیري کی نائب گورنر کرن بیدی سمیت کئی جانی مانی شخصیات نے ملک میں لوک پال کی تقرری کو لے کر اس وقت کے منموہن حکومت کے خلاف ملک بھر میں بڑی سیاسی تحریک چلائی تھی۔12 دن چلی اس تحریک کے دوران ملک بھر میں زبردست عوامی مزاحمت دیکھنے کو ملا تھا۔آخر کار اس وقت حکومت نے جذبات کا احترام کرتے ہوئے لوک پال قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔


Share: